کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کا بھائی عمرو فوت ہوگیا،اب زید عمرو کانماز جنازہ پڑھ لے تو کیا عمرو کے بیٹے اور والد صاحب کا جنازہ پڑھنے کا حق ساقط ہوجائے گا یا وہ اب پڑھ سکتے ہیں؟
نوٹ: جنازہ امام محلہ کے علاوہ کسی اجنبی شخص نے پڑھایا تھا،لیکن جنازہ پڑھانے والے کو میت کے بھائی نے اجازت دی تھی۔میت کا باپ اور بیٹاموجود تھے لیکن کسی وجہ سے نماز جنازہ نہ پڑھی ،ان دونوں نے صراحتا یا دلالتا اجازت نہ دی یعنی اس اجنبی شخص کو امامت کروانے کی نہ اجازت دی ،نہ اس کے پیچھے نماز پڑھی اور نہ اس کی امامت پر راضی تھے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
صورت مسئولہ میں زید نے اگر اپنے بھائی عمرو کی نماز جنازہ پڑھ لی مگر عمرو کے ابو اور بیٹے نے نہ پڑھی تو عمرو کے والد اور بیٹے چاہیں تو نماز جنازہ پڑھ سکتے کیونکہ ان کا حق ساقط نہ ہوگا کہ یہ ولی اقرب ہیں
اور جو پہلے پڑھ چکے وہ ان کے ساتھ شامل نہیں ہوسکتے کہ نماز جنازہ میں تکرار مشروع نہیں ہے
مگر یاد رہے کہ باپ میت کے بیٹے کے مقابلے میں ولی اقرب ہے
جیسا کہ فقہاء نے اس کی صراحت فرمائی ہے
مراقی میں ہے”ان صلى غيره أي غير من له حق التقدم بلا إذن ولم يقتد به أعادهاهوإن شاءلعدم سقوط حقه “یعنی جس کا حق مقدم تھا اس کی اجازت کے بغیر کسی غیر نے نماز جنازہ پڑھی اور اس (حق والے)نے اس کی اقتدا نہ کی تو یہ چاہے تو اعادہ کرسکتا ہے،حق ساقط نہ ہونے کے سب۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، فصل السلطان أحق بصلاته،صفحہ591،دار الكتب العلمية،بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے” ولو كان للميت وليان في درجة واحدة فأكبرهما سنا أولى۔۔۔ فإن تشاجر الوليان فتقدم أجنبي بغير إذنهما فصلى ينظر إن صلى الأولياء معه جازت الصلاة ولا تعاد، وإن لم يصلوا معه فلهم إعادة الصلاة، وإن كان أحدهما أقرب من الآخر فالولاية إليه وله أن يقدم من شاء؛ لأن الأبعد محجوب به فصار بمنزلة الأجنبي “ترجمہ:اگر میت کے دو ولی ایک ہی درجہ کے ہیں تو دونوں میں سے عمر میں بڑا اولیٰ ہے۔ اگر دونوں جھگڑاکریں اور کسی اجنبی کو مقدم کردیا گیا اور اس نے دونوں کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھا دی تو اگراولیاء نے اس اجنبی کے ساتھ نماز پڑھ لی تو نماز جنازہ درست ہے اور اولیاء اعادہ نہیں کرسکتے۔ اگر انہوں نے ساتھ نماز جنازہ نہ پڑھا تو اعادہ کرسکتے ہیں۔ اگر دونوں میں ایک دوسرے کی بہ نسبت میت کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہے تو ولایت اس کے لیے ہیں۔اسے اختیار ہے کہ جسے چاہے مقدم کردے۔ اس لیے کہ بعد والا محجوب ہوجاتا ہے قریب والے سے اور بمنزلہ اجنبی ہوجاتا ہے۔
( بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل بيان من له ولاية الصلاة على الميت،جلد1،صفحہ317،دار الكتب
درمختار میں ہے ” ان صلی غیر الولی ولم یتابعہ الولی اعاد الولی ولو علٰی قبرہ ان شاء ولیس لمن صلی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرار ھا غیر مشروع ملخصا“ترجمہ:اگر غیر ولی نے نماز جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو نماز جنازہ کا اعادہ کرسکتا ہے،اگرچہ قبر پر پڑھ لے اور جو پہلے جنازہ میں شریک ہوچکا ہے وہ دوبارہ ولی کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا، کیونکہ نماز جنازہ میں تکرار مشروع نہیں ہے۔
(درمختارمع ردالمحتار، کتاب الصلوۃ ،باب صلوۃ الجنازۃ،جلد2،صفحہ222،دارالفکر،بیروت)
نمازجنازہ کی ولایت کے بارے میں بہارشریعت میں ہے : نماز جنازہ میں میّت کے باپ کو بیٹے پر تقدم ہے۔
(بہارشریعت،جلد1،حصہ 4صفحہ836،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
0 Comments