میت کا سر نہ ہو تو نماز جنازہ ہوگی یا نہیں؟

 سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میت کا فقط سر نہ ہو جبکہ باقی پورا جسم موجود  ہو تو نماز جنازہ ہوگی یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ


   مذکورہ  میت کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ کیونکہ مذکورہ صورت میں میت کے سر کے علاوہ باقی حصہ موجود ہے اور جب میت کے جسم کا اکثر حصہ موجود ہو اگرچہ سر نہ ہو یا  اکثر حصہ تو نہیں ہے، لیکن آدھا حصہ سر سمیت موجودہو،تو نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ البتہ اگر آدھے حصے کے ساتھ سر نہیں ہے یا آدھے سے بھی کم جسم ہے، تو اسے بغیر غسل دیے ، بغیر نماز جنازہ پڑھے دفن کردیا جائے گا۔


   مجمع الانہر میں ہے:”(ولا يصلى على عضو) أي عضو كان هذا إذا وجد الأقل ولو مع الرأس۔۔۔أما إذا وجد الأكثر أو النصف مع الرأس فيغسل ويصلى عليه بالاتفاق “ترجمہ:کسی ایک عضو پر نماز نہیں پڑھی جائے گی ۔یعنی میت کا ایسا عضو جو نصف سے کم ہو اگرچہ وہ سرمیت ہو،اس پر  نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے  گی۔ بہرحال اگر جسم کا اکثر حصہ یا آدھا حصہ سر سمیت ملا،تو اسے غسل دیا جائے گااور بالاتفاق اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،جلد1،صفحہ185،دار إحياء التراث العربي)


   حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:”قولہ:’’أو نصفه مع الرأس‘‘قيد به لأنه لو وجد النصف بدون رأس لا يغسل ولا يصلي عليه بل يدفن “ترجمہ:ان کا قول: یا میت کا نصف ہو  سر سمیت۔“ یہاں نصف  کی قید لگائی ہے، کیونکہ اگر جسم کا نصف حصہ بغیر سر کے ملا تو، نہ غسل دیا جائے گا اور نہ نماز پڑھی جائے گی۔ بلکہ اسے (بغیر غسل اور نماز کے) دفن کردیا جائے گا۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ،باب احکام الجنائز،صفحہ575،دار الكتب العلمية،بيروت)


   نماز جنازہ کی شرائط بیان کرتے ہوئے مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” جنازہ کا وہاں موجود ہونا یعنی کُل یا اکثر یا نصف مع سر کے موجود ہونا، لہٰذا غائب کی نماز نہیں ہوسکتی۔“)بھارشریعت،حصہ4،صفحہ828،مکتبۃ المدینہ ،کراچی(


وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کتبہ ابو ثوبان محمد رضوان مدنی 

24/05/2023