کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایام تشریق میں کیا عمرہ کرنا منع ہے؟

     بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

          ایامِ تشریق میں عمرہ کا احرام باندھنا مکروہِ تحریمی ہے خواہ عمرہ کے افعال ادا کئے جائیں یا نہ کئے جائیں اور یہ ممانعت آفاقی ،حلی اور میقاتی سبھی کے لئے ہے اوراس بارے میں اصل مسئلہ یہ ہے پورے سال میں پانچ دن ایسے ہیں کہ جن میں عمرہ کا احرام باندھنا جائز نہیں اور اگر باندھ لیا تو اس (عمرہ کا احرام باندھنے کے )گناہ سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے چھوڑنا لازم ہے اور بعد میں اس عمرہ کی قضا کرنے اور دم دینے کاحکم ہے ہاں پہلے سے احرام باندھا ہو تو پھر ان دنوں میں عمرہ کی ادائیگی کرنے میں حرج نہیں لیکن اس صورت میں بھی مستحب یہی ہے کہ یہ دن گزار کر عمرہ کے افعال ادا کئے جائیں ۔وہ پانچ دن یہ ہیں (1)یوم عرفہ یعنی 9ذوالحجۃ الحرام (2)یوم نحر یعنی 10ذوالحجۃ الحرام (3،4،5)ایام تشریق یعنی  11 ، 12 ، 13 ذوالحجۃ الحرام ۔

      الاختیار لتعلیل المختار میں ہے :

    و تکرہ يوم عرفة و النحر أيام التشريق و قال فى شرحه : منقول عن عائشة : والظاهر أنه سماع من النبى صلى الله عليه وسلم.و لأنه عليه فى هذه الأيام باقى أفعال الحج ، فلو إشتغل بالعمرة ، ربما إشتغل عنها فتفوت فلو أداها  فيها جاز مع الكراهة كصلاة التطوع فى الأوقات الخمسة المكروهة ۔

    ترجمہ : یعنی عمرہ یوم عرفہ ، یوم نحر و أیام تشریق میں مکروہ ہے اور مصنف نے اپنی شرح میں کہا کہ : یہ بات حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے منقول ہے : اور ظاہر ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع ہے۔اور کیونکہ ان دنوں میں حاجی پر باقی افعال حج کی ادائیگی ہے لیکن اگر وہ عمرہ مشغول ہو گیا تو بہت ممکن ہے کہ یہ افعال اس سے فوت ہو جائیں گے ، اور اگر اس نے عمرہ ان ایام میں کر لیا تو کراہت کے ساتھ  ہو جائے گا جیسے نفل نماز پانچ مکروہ وقتوں میں ۔

     ( الاختیار لتعلیل المختار ، الجزء الاول، کتاب الحج ، فصل فی أحکام العمرۃ ،جلد 1 ،صفحہ 491، 

الناشر: دار الرسالة العالمية)

      السالک فی المناسک میں ہے :

    أما وقت العمرة فجميع السنة وقت لها : إلا أنه يكره فى خمسة أيام : يوم عرفة ،يوم النحر و أيام التشريق۔

    ترجمہ : بہر حال عمرہ  کا وقت تو پورا سال اس کا وقت ہے  مگر یہ کہ عمرہ پانچ  دنوں میں مکروہ ہے  یعنی یوم عرفہ ، یوم  نحر اور أیام تشریق میں۔

    ( السالک فی المناسک ، القسم الثانی فی بیان نسک الحج ، فصل فی وقت العمرۃ ،جلد 1 ، صفحہ 293 ،شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ)

     شرح مجمع البحرین و ملتقی النیرین میں ہے:

        و تجوز کل العام إلا يوم النحر و أيام التشريق۔

      ترجمہ : یعنی عمرہ پورا سال جائز ہے سوائے یوم نحر اور أیام تشریق میں ۔

   ( شرح مجمع البحرین و ملتقی النیرین ، کتاب الحج  ، فصل فی العمرۃ ،جلد 4 ، صفحہ 73،مکتبہ دار الفلاح )

     منحۃ الخالق میں ہے :

    لأن العمرة جائزة فى جميع السنة بلا کراھۃ إلا فى خمسة أيام لا فرق بين المكى و الآفاقى كما صرح به فى النهاية و المبسوط ، والبحر ،وأخى زاده ، و العلامة قاسم و غيرهم ۔

    ترجمہ :کیونکہ عمرہ بغیر کسی کراہت کے پورا سال جائز ہے سوائے پانچ دنوں کے ، اس میں مکی اور آفاقی کے لئے کوئی فرق نہیں جیسا کہ صاحب نہایہ نے النہایہ میں ، المبسوط میں(صاحب مبسوط نے ) ، البحر الرائق میں (صاحب البحر الرائق نے) ، اخی زادہ اور علامہ قاسم و غیرھم رحمھم اللہ نے اسکی صراحت کی ہے ۔

     ( منحۃ الخالق حاشیہ البحر الرائق ، کتاب الحج ، باب التمتع ، تحت قولہ : ولا تعمتع و لا قران الخ ، جلد 2 ، صفحہ 642، دار الکتب العلمیہ بیروت)

      محیط برہانی میں ہے:

      ووقت العمرة السنة كلها؛ لأنه لم يرد فيها توقيت، ولكن يكره في يوم عرفة، وأيام التشريق هكذا روي عن عائشة رضي الله عنها؛ ولأن هذه الأيام وقت أداء الحج، فيجب تجريدها لأداء الحج، 

     ترجمہ : یعنی عمرہ کا وقت پورا سال ہے کیونکہ اس کے بارے میں کوئی وقت بیان نہیں ہوا ، لیکن یوم عرفہ اور أیام تشریق میں عمرہ مکروہ ہے اسی طرح حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا گیا ہے ؛ اور کیونکہ یہ ایام حج کی ادائیگی کا وقت ہیں تو حج کی ادائیگی کیلئے اس کو خالی کرنا واجب ہے ۔

     (محیط برہانی ، فصل فی بیان وقت الحج و العمرۃ ،جلد 2 ، صفحہ 460 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

       علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ  الھدية العلائية میں لکھتے  ہیں :

    و كرهت تحريما يوم عرفة و أربعة بعدها ، وأشهر الحج لمن يريد الحج من أهل مكة ، و لمن أقام بها قبل أشهره ،و لمن فی داخل الميقات۔

     ترجمہ : یعنی عمرہ مکروہ تحریمی ہے یوم عرفہ اور بعد کے چار دن (یعنی ذوالحج کی 9 ،10 ،11، 12 ، 13 تاریخ ) اور حج کے مہینوں میں اس شخص کیلئے جو اہل مکہ میں سے ہو اور اس کے لئے جو حج کہ مہینوں سے پہلے مکہ میں مقیم ہو گیا ہو اور اسکے لئے جو حدودِ میقات کے اندر رہنے والا ہو ۔

    (  الھدیۃ العلائیۃ ، و أحکام الحج و العمرۃ و أحکامھا ، صفحہ 188 )   

       درمختار میں ہے :

     وجازت فی کل السنۃ)۔۔۔۔۔(وکرہت) تحریما (یوم عرفۃ وأربعۃ بعدہا) أی کرہ إنشاؤہا بالإحرام حتی یلزمہ دم وإن رفضہا لا أداؤہا فیہا بالإحرام السابق۔

      ترجمہ: عمرہ تمام سال میں جائز ہے لیکن یوم عرفہ اور اس کے بعد چار دن میں مکروہِ تحریمی ہے یعنی ان میں احرام کے ساتھ عمرہ کی ابتدا ء کرنامکروہ تحریمی ہے حتی کہ اس پر دم لازم ہو گا اگرچہ اسے چھوڑ دے نہ کہ احرام سابق کے ساتھ ان دنوں میں عمرہ کی ادائیگی(کہ وہ مکروہ نہیں ہے ۔)

      (درمختار معہ رد المحتار،کتاب الحج ،مطلب فی احکام العمرۃ،جلد2،صفحہ473، دار الفکر ،بیروت)

ایک اور مقام پر فرمایا:

       حج فأہل بعمرۃ یوم النحر أو فی ثلاثۃ) أیام (بعدہ لزمتہ بالشروع، لکن مع کراہۃ التحریم (ورفضت) وجوبا تخلصا من الإثم (وقضیت مع دم) للرفض (وإن مضی) علیہا (صح وعلیہ دم) لارتکاب الکراہۃ فہو دم جبر۔

     ترجمہ: کسی نے حج کیا پس یوم نحر یا اس کے بعد تین دن میں عمرہ کا احرام باندھا تو یوں عمرہ شروع کرنے سے اس پر یہ عمرہ کرنا لازم ہوگیا لیکن کراہتِ تحریمی کے ساتھ اور گناہ سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے وجوبی طور پر چھوڑ دیا جائے اور چھوڑنے کی بنا ء پر دم دینے کے ساتھ ساتھ اس کی قضا کی جائے اور اگر اسی احرام پر برقراررہا تو(عمرہ )صحیح ہوجائے گا اور اس پر دم لازم ہو گا مکروہ ِ تحریمی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے تو یہ اس نقصان کو پورا کرنے والا دم ہو گا ۔ 

       ( درمختارمعہ رد المحتار، کتاب الحج،باب جنایات فی الحج ،جلد2،صفحہ588تا89 ،دار الفکر ،بیروت)

   اس کے تحت رد المحتار میں کراہت کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

      ’ویظہر لی أن العلۃ فی الکراہۃ ولزوم الرفض ہی الجمع أو وقوع الإحرام فی ہذہ الأیام فأیہما وجد کفی۔

     ترجمہ: مجھ پریہ ظاہر ہوتا ہے کہ بے شک عمرہ کی کراہت اور اسے چھوڑنے کے لزوم کی علت وہ حج وعمرہ کا ان دنوں میں جمع ہونا ہے یا ان دنوں میں عمرہ کے احرام کاپایا جانا ہے پس ان دونوں میں سے کوئی بھی علت پائی گئی توکافی ہے۔

    ( درمختارمعہ رد المحتار، کتاب الحج،باب جنایات فی الحج ،جلد2،صفحہ588تا89 ،دار الفکر ،بیروت)

 

       واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ ابو ثوبان محمد رضوان مدنی